مارکیٹرز بتدریج جنریٹو مصنوعی ذہانت (AI) کو اپناتے ہوئے اپنی برانڈز کی آواز کو نمائندگی دے رہے ہیں، جو مارکیٹنگ میں ایک بڑی ترقی کی نشاندہی ہے جہاں AI ٹیکنالوجیز بتدریج مہم کے ڈیزائن اور عملدرآمد میں ضروری ہوتی جارہی ہیں۔ AI سے چلنے والی برانڈ کمیونیکیشن کی یہ بڑھتی ہوئی قبولیت اس وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتی ہے جس میں جدید آلات کو اپنایا جا رہا ہے تاکہ مارکیٹنگ کی مؤثرہ اور کارکردگی میں اضافہ کیا جا سکے۔ جنریٹو AI ایسے نظاموں پر مشتمل ہے جو فراہم کردہ ڈیٹا کی بنیاد پر اصل مواد تخلیق کرتے ہیں، اکثر انسانی تخلیق اور فیصلہ سازی کی نقل کرتے ہوئے۔ مارکیٹنگ میں، یہ ٹیکنالوجی مختلف مہمات کی ترقی کے شعبوں میں خود کو منوا رہی ہے، جیسے کہ مواد کی تیاری، صارفین سے تعامل، اور حکمت عملی کی منصوبہ بندی۔ جنریٹو AI کا استعمال برانڈز کو مستقل پیغامات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مخصوص سامعین کے لیے کمیونیکیشن کو تیز اور درست انداز میں شخصی بنانے کی اجازت دیتا ہے۔ اس اسٹریٹجی کی ایک اہم خصوصیت AI ایجنٹس کی ہے—ایک دوسرے سے جُڑے AI اداروں کے نیٹ ورک جو مجموعی مارکیٹنگ کے فریم ورک کے اندر مخصوص کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ ایجنٹس مل کر کام کرتے ہیں تاکہ مختلف فرائض انجام دے سکیں جیسے کہ ڈیٹا کا تجزیہ، مواد کا پیداوار، صارفین سے رابطہ اور کارکردگی کی نگرانی۔ مخصوص AI اجزاء میں ذمہ داریوں کی تقسیم سے، مارکیٹرز مشین کی ذہانت کی طاقتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مارکیٹنگ کے ہر مرحلے کو بہتر بناتے ہیں۔ یہ مشترکہ AI ایجنٹ سسٹم پیچیدہ ورک فلو کو خودکار بناتا ہے جو روایتی طور پر انسانی ٹیموں کے ذریعے انجام دیا جاتا تھا۔ مثلاً، جب ایک نئی مصنوعات کی مہم شروع کی جاتی ہے، تو AI ایجنٹس مارکیٹ کے رجحانات کا جائزہ لے سکتے ہیں، ہدف شدہ پروموشنل مواد تیار کر سکتے ہیں، سوشل میڈیا پوسٹس کا شیڈول بنا سکتے ہیں، اور صارفین کی رائے کو حقیقی وقت میں مانیٹر کر سکتے ہیں۔ ان کاموں کو AI سے چلنے والے ڈھانچے کے اندر شامل کرنے سے سامعین کی رائے اور مارکیٹ کے بدلتے حالات کے مطابق تیزی سے ردعمل دیا جا سکتا ہے، جس سے زیادہ متحرک اور لچکدار مارکیٹنگ حکمت عملی آسان ہو جاتی ہے۔ مارکیٹنگ شعبہ میں جنریٹو AI کے استعمال میں اضافہ مستقبل کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے جہاں AI خود مختار طور پر مہمات کا انتظام کر سکتا ہے۔ حامیوں کا تصور ہے کہ AI نظام نہ صرف مارکیٹنگ کا مواد تخلیق اور تیار کریں گے بلکہ بغیر انسانی نگرانی کی منظوری بھی دیں گے۔ یہ ایک انقلابی تبدیلی ہو گی، جس سے روٹنگ مارکیٹنگ کے کاموں کے لیے انسانی محنت پر انحصار کم ہو جائے گا اور تخلیقی پیشہ وران کو اعلیٰ سطحی حکمت عملی پر توجہ دینے کا موقع ملے گا۔ پھر بھی، مکمل خود مختار AI پر مبنی مارکیٹنگ کا راستہ آہستہ اور مشکل ہے۔ مارکیٹرز کو اب بھی برانڈ کی اصلذات کو یقینی بنانے، اخلاقی مسائل سے نمٹنے، اور فیصلوں میں انسانی فیصلہ کو برقرار رکھنے کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ AI کی صلاحیتوں اور انسانی نگرانی کے مابین توازن برقرار رکھنا ان ٹیکنالوجیوں کو ذمہ داری سے اپنانے کے لیے ضروری ہے۔ مزید یہ کہ، برانڈ کمیونیکیشن میں جنریٹو AI کے بڑھتے کردار سے صارفین کے نظریہ اور قبولیت کے حوالے سے بھی سوالات جنم لیتے ہیں۔ جیسے ہی AI سے تیار کردہ مواد عام ہوتا جائے گا، کاروباری اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ شفافیت برقرار رکھیں اور اپنے صارفین کے ساتھ اعتماد قائم کریں۔ مارکیٹنگ میں AI کے استعمال کے بارے میں کھلی بات چیت کرنے سے تشویشات ختم ہوتی ہیں اور اصل برانڈی روابط کو برقرار رکھنے کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ آخر میں، مارکیٹنگ صنعت ایک اہم تبدیلی سے گزر رہی ہے کیونکہ جنریٹو مصنوعی ذہانت زیادہ سے زیادہ برانڈز کی آواز کو شکل دے رہی ہے اور مہمات کے عمل درآمد کو تحریک دے رہی ہے۔ AI ایجنٹس اور مربوط نظاموں کو استعمال کرکے، مارکیٹرز ایسی جدید حکمت عملی تیار کر رہے ہیں جو کارکردگی، شخصی سازی، اور جواب دہی کو بہتر بناتی ہیں۔ اگرچہ مارکیٹنگ میں مکمل AI خودمختاری ابھی ایک مستقبل کا ہدف ہے، حالیہ رجحانات ظاہر کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت انسان کی تخلیقی صلاحیتوں اور حکمت عملی کے ادراک کو بتدریج تعاون دیتی رہے گی، اور یوں برانڈز کے اپنے سامعین کے ساتھ تعامل کا انداز بدل جائے گا۔
نگرانی کی مصنوعی ذہانت کس طرح برانڈ کی آوازوں اور مارکیٹنگ کے مہمات میں انقلاب لا رہی ہے
ویڈیو تخلیق کے میدان میں تیزی سے بدلاؤ آ رہا ہے، جس کی بنیاد مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی اور قیمتوں میں کمی ہے، جو تخلیقی معیشت کو بدل رہا ہے۔ ایک وقت تھا جب مکمل پروڈکشین ٹیمیں، بھرپور پوسٹ پروڈکشن، اور اسٹوڈیو کا وقت درکار ہوتا تھا، اب صرف ایک جنریٹو پرامپٹ سے چند منٹوں میں یہ ممکن ہے۔ اس اسلمیت نے نہ صرف ٹیکنالوجی کو آگے بڑھایا ہے بلکہ روایتی وسطی طبقے کی ویڈیو پروڈکشن کے تصور کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ عالمی سطح پر، ڈیجیٹل ویڈیو اشہارات کی مد میں خرچ 2024 میں 64 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے اور 2025 تک یہ 72 ارب ڈالر تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ تقریباً 90% اشہاری کمپنیوں کا منصوبہ ہے کہ وہ اپنی مہمات میں جنریٹو مصنوعی ذہانت کے آلات شامل کریں گے، جس سے چھوٹے برانڈز کے لیے داخلے کے دروازے روشن ہو رہے ہیں۔ تاہم، یہ رجحان بڑے حجم، کم لاگت کے AI سے تیار کردہ مواد اور اعلیٰ معیار کی ہمدردی سے تخلیق کردہ کہانیوں کے مابین تقسیم کو گہرا کرتا ہے، جس سے درمیانے درجے کی ایجنسیاں اور فریلانسرز غیر یقینی حالت میں آ جاتے ہیں۔ صنعتی رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ تقریبا 63% مارکیٹرز نے ویڈیو اداری میں AI کو اپنا لیا ہے تاکہ پروڈکشن کی رفتار تیز کریں۔ یہ تبدیلی پہلے سے ہی دنیا بھر میں مارکیٹنگ کے وسائل کو دوبارہ ترتیب دے رہی ہے، اور ایک اقتصادی تقسیم پیدا ہو رہی ہے جس میں درمیانے درجے کے تخلیقی ماہرین — جو کبھی مارکیٹنگ ویڈیوز، وضاحت کرنے والی ویڈیوز اور درمیانی بجٹ کے اشتہارات کی ریڑھ کی ہڈی تھے — کنارے لگ رہے ہیں۔ AI آلات اب ایڈیٹنگ، سکرپٹنگ، اور آواز پیدا کرنے کے عمل کو خودکار بنا رہے ہیں، اور پلیٹ فارمز جیسے Pika Labs اور Synthesia، روایتی 15,000 ڈالر کے پروجیکٹس کو کم قیمت سبسکرپشنز سے بدل رہے ہیں۔ جب تخلیق کے اخراجات تقریباً صفر کے قریب پہنچ جائیں، تو مسابقتی فائدہ دیگر عوامل سے حاصل کرنا ہوگا۔ 2025 تک، توقع ہے کہ تقریباً 40% اشتہارات جنریٹو AI کے عناصر سے مزین ہوں گے، جو AI سے نکلی ہوئی کرداروں، جیسے ویڈیو ایڈیٹنگ اور موشن ڈیزائن کے محققین کی کمائی کو دبا دیں گے۔ بڑے برانڈز آسانی سے مواد کو وسعت دے سکیں گے، مگر درمیانے درجے کے تخلیق کاروں کو حسابی الگورتھمز سے مقابلہ کرنا پڑے گا، جس سے درمیانے بازار کی اہمیت کم ہو رہی ہے۔ یہ صورتحال ایک بلیوٗبل کی طرح معیشت کو تشکیل دے رہی ہے: ایک طرف، AI کی مدد سے بڑے حجم کا مواد خودکار طور پر سڑکوں پر بہ رہا ہے، اور دوسری طرف، اعلیٰ معیار کے انسانی کہانی کار، مصداقیت، اصل مقامات اور بے قاعدہ جذبات کی اہمیت سے قدر بڑھا رہے ہیں۔ کری ایٹر معیشت میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہو رہا ہے، اور 2025 تک یہ 37 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ صارفین شفافیت اور اعتماد کا مطالبہ بڑھا رہے ہیں، کیونکہ مصنوعی میڈیا تیزی سے پھیل رہا ہے، جس کے سبب پلیٹ فارمز جیسے TikTok نے AI سے بنے ویڈیوز کی واضح نشان دہی لازمی قرار دے دی ہے، جبکہ عالمی قواعد و ضوابط مواد کی اصل اور شہادت کے معیار پر زور دے رہے ہیں، حالانکہ واٹر مارک کی کمزوریاں جیسے تکنیکی مسائل بھی درپیش ہیں۔ اس ہائبرڈ دور میں، تخلیق کاروں کو یا تو “اسکیل آپریٹرز” بننا ہوگا، جو AI کا استعمال کرکے تیز اور ڈیٹا پر مبنی مواد تیار کریں، یا “ایماندار اسپیشلسٹس” ، جو اصالت، حقیقی جگہوں اور غیر تیار شدہ جذبات پر توجہ دیں۔ فری لانسرز کو ای آئی کو ورک فلو میں شامل کرکے اپنی صلاحیتوں کو اپنانا چاہیے، ورنہ روایتی تخلیقی کاموں کی خودکار کاری کے سبب وہ غیر ضروری ہو سکتے ہیں۔ شفافیت، اصل اور ماحولیاتی ذمہ داری اب برانڈز کے کلیدی اقدار میں شامل ہوتی جا رہی ہیں، خاص طور پر جب AI کی کمپیوٹیشنل طلب بڑھ رہی ہے، اور اس کا مطلب ہے کہ ڈیٹا سینٹرز 2030 تک سالانہ 945 تریلیون واٹ گھنٹے بجلی استعمال کریں گے، اس لیے گرین کمپیوٹنگ اور کاربن کے حوالے سے ہوشیاری ضروری ہے۔ مستقبل کے لیے حکمت عملی اپنانا ضروری ہے: یا تو AI کے ذریعے اسکیلنگ کو قبول کریں یا سچی اور انسانی کہانیوں پر مبنی مواد میں اضافہ کریں۔ درمیانے طبقے کی کمی کو پورا کرنے کے لیے، تخلیق کاروں کو اپنی قیمت یا تو الگورتھمز کی کارکردگی کے ذریعے یا جذباتی ایمانداری کے ذریعے دوبارہ تعریف کرنی ہوگی۔ کامیابی کا راز، AI کو ایک تخلیقی قوت کے طور پر استعمال کرنے یا فن کاری کے ذریعے اعتماد پیدا کرنے میں ہے۔ اہم سوالات میں شامل ہیں کہ ڈیجیٹل صداقت کی نشان دہی کے لیے مواد کے سرکلر تصدیقی نشان، AI کا کردار صرف معمولی ترمیمات کو خودکار بنانا ہے، لیکن کہانی سنانے کے جذبات کو نہیں بدلنا، پلیٹ فارمز کے AI مواد پر لیبلنگ کے احکامات تاکہ اعتماد برقرار رہے، درمیانے درجے کے تخلیق کاروں کو اسکیل یا اعتماد کی حکمت عملی اپنانے کا مشورہ، اور AI ویڈیو پروڈکشن کے ماحولیاتی اثرات، جنہیں توانائی کی بچت والی ٹیکنالوجی سے کم کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔
ژانگ یئو ژو، وزیر برائے ریاستی اثاثہ جات کے نگرانی اور انتظامیہ کمیشن، نے حال ہی میں 16ویں پانچ سالہ منصوبہ کے دوران مرکزی ریاستی ملکیتی کمپنیوں (ایس او ایز) کے لیے اسٹریٹجک ترجیحات کا خاکہ پیش کیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کمپنیوں کو ہدایت دی جائے کہ وہ "AI+" منصوبہ کو گہرا اور پھیلائیں، جس میں مصنوعی ذہانت کو روایتی اور ابھرتے ہوئے صنعتوں کے ساتھ مربوط کیا جاتا ہے تاکہ پیداوار، جدت اور مقابلہ بازی کو فروغ ملے۔ یہ اقدام چین کی تکنیکی تبدیلی اور صنعتی بہتری کے لیے مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔ اہم شعبوں میں شامل ہیں ابھرتی ہوئی صنعتیں جیسے نئی توانائی، نیا توانائی گاڑیاں (NEV)، نئی مواد، فضائیہ، اور کم بلندی والی معیشت کی توسیع، جو چین کی صنعتی، جدید کاری اور پائیدار ترقی کے اہداف کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ ان کے علاوہ، ژانگ نے جدید شعبوں، جیسے کوانٹم ٹیکنالوجی، مجسمہ AI، بایومی닌فیکچرنگ، اور 6G مواصلات کو سرگرمی سے آگے بڑھانے پر زور دیا—یہ سرحدیں ایسی مواقع فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں جو عالمی مقابلہ میں اہم برتری فراہم کریں گی۔ کوانٹم ٹیکنالوجی کو ترجیح دی گئی ہے کیونکہ یہ کمپیوٹنگ، مواصلات اور رمز نگاری میں انقلابی تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مجسمہ AI، جو AI کو روبوٹکس اور خودمختار نظاموں کے ساتھ ملاتی ہے، ذہین پیداوار اور خدماتی صنعتوں کے لیے ضروری ہے۔ بایومی닌فیکچرنگ، حیاتیات اور پیداوار کو ملا کرBiomedical مصنوعات اور پائیدار حل تیار کرتا ہے، جو بایوٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی اہمیت ظاہر کرتا ہے۔ اسی دوران، 6G مواصلات بے مثال وائرلیس رفتار اور کنیکٹیویٹی فراہم کرنے کا وعدہ کرتا ہے تاکہ مستقبل کے ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کو سپورٹ کیا جا سکے۔ ژانگ کے بیانات چین کی حکومتی عزم کو ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ایس او ایز کو انوکھے ترقیاتی اقدام میں اہم کردار ادا کرنے والے ذرائع کے طور پر استعمال کرے گا، تاکہ ان کی کوششوں کو قومی اسٹریٹجک مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے اور چین کو ہائی ٹیک اور پائیدار صنعتوں میں عالمی رہنما بنایا جا سکے۔ 16ویں پانچ سالہ منصوبہ اس لیے صرف معاشی ترقی ہی نہیں بلکہ تکنیکی خودکفالت اور صنعتی طاقت پر بھی زور دیتا ہے، اور توقع ہے کہ ایس او ایز کی فعال شمولیت سے چین کی اختراعی صلاحیتیں اور بین الاقوامی مقابلہ بازی میں اضافہ ہوگا۔ یہ جامع حکمت عملی AI اور دیگر تبدیلی لانے والی ٹیکنالوجیز کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے۔ نئے توانائی اور NEV شعبوں میں AI کا شامل کرنا سبز اور زیادہ مؤثر نقل و حمل کی جانب قدم بڑھانے کا مقصد رکھتا ہے۔ نئی مواد اور فضائیہ کے شعبوں کو آگے بڑھانا قومی سلامتی اور معیشتی ترقی سے منسلک اہم شعبوں میں صلاحیتیں بڑھانے کا عزم ظاہر کرتا ہے۔ کم بلندی والی معیشت، جس میں ڈرون لاجسٹکس اور شہری ہوا بازی شامل ہیں، ایک مستقبل دار کوشش ہے کہ وہ انوکھے ترقیاتی شعبوں کو جدید بنا سکے۔ خلاصہ یہ ہے کہ، ژانگ یئو ژو کی ہدایات 16ویں پانچ سالہ منصوبہ کے دوران مرکزی ایس او ایز کے لیے ایک واضح رہنمائی فراہم کرتی ہیں، جنہیں چین کی جدید ٹیکنالوجی اور پائیدار ترقی کے سفر میں اہم کردار ادا کرنے والی کٹنگ ایج ٹیکنالوجیز کا محرک قرار دیا گیا ہے۔ یہ اسٹریٹجک سمت چین کے صنعتی مناظر کو مضبوط بنانے اور آئندہ برسوں میں عالمی ٹیکنالوجی میدان میں اپنی جگہ برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے۔
اوپن اے آئی، ایک معروف مصنوعی ذہانت کی تحقیقاتی تنظیم، نے باضابطہ طور پر GPT-5 جاری کیا ہے، جو جدید ترین AI زبان کا ماڈل ہے اور قدرتی زبان کے عمل میں ایک بڑی پیش رفت ہے۔ یہ ماڈل بے مثال درستگی اور گہرے سیاق و سباق کی سمجھ بوجھ فراہم کرتا ہے، جسے وسیع متن کے مجموعہ پر بھرپور تربیت دے کر تیار کیا گیا ہے، جس سے یہ نرمی، نحوی ساخت اور معنویت کو انتہائی دقیقی انداز میں سمجھ سکتا ہے۔ GPT-5 کی ترقیاتی خصوصیات مختلف صنعتوں کو اثر انداز کرنے کے لئے تیار ہیں، جہاں قدرتی زبان کی سمجھ اور پیداوار اہم ہیں۔ GPT-5 کا ایک اہم استعمال مواد کی تخلیق ہے، جہاں یہ معیاری مضامین، رپورٹس، تخلیقی نگارش، اسکرین پلے اور مارکیٹنگ کاپی تیار کر سکتا ہے۔ اس کی صلاحیت کہ وہ سیاق و سباق کے مطابق درست اور اسلوب کے مطابق مشورے فراہم کرے، پیداوار کو تیزی سے مکمل کرنے میں مدد دیتی ہے اور تخلیق کاروں اور کاروباروں کے لیے ایک یکساں آواز برقرار رکھنے میں معاون ہے۔ مزید برآں، GPT-5 کی بہتری شدہ سیاق و سباق کی فہم صارفین کی خدمت کو بہتر بناتی ہے، کیونکہ یہ چیٹ بوٹس اور ورچوئل اسسٹنٹس کو مزید وسیع سوالات کے جوابات دینے کے قابل بناتی ہے، جس سے جواب دہی میں تیزی، اعلیٰ اطمینان اور معمولی معاونت کے لیے انسانی عملے پر انحصار کم ہوتا ہے۔ مواد اور صارفین کی خدمت سے آگے، GPT-5 تعلیم، صحت اور قانونی شعبوں میں انقلاب برپا کرسکتا ہے۔ تعلیم میں، یہ ذاتی نوعیت کی سیکھنے کو فروغ دے سکتا ہے، جیسا کہ مخصوص ٹیوٹرنگ۔ صحت کے شعبے میں، یہ مریض سے رابطے اور کلینیکل نوٹس کو درست طریقے سے خلاصہ کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ قانونی پیشہ ور افراد اس کا استعمال پیچیدہ دستاویزات کا تجزیہ، متعلقہ معمولی فیصلے تلاش کرنے اور ابتدائی مسودے تیار کرنے کے لیے کر سکتے ہیں، جس سے کام کا بہاؤ بہتر ہوتا ہے۔ اوپن اے آئی GPT-5 کے استعمال کے ساتھ اخلاقی پہلوؤں پر زور دیتا ہے، جس میں مواد کی بہتر تہہ بندی، تعصب کی کمی اور غلط استعمال کو روکنے کے اقدامات شامل ہیں تاکہ یہ معاشرتی اقدار کے مطابق ہو سکے۔ یہ ریلیز AI کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل ہے، جو انسانی صلاحیتوں کو بڑھاتی ہے اور نئی سطح کی تخلیقی، مؤثر اور جدت طرازی کو ممکن بناتی ہے۔ صنعت کے ماہرین کا ماننا ہے کہ GPT-5 عالمی معیار قائم کرے گا، کیونکہ یہ عمدہ درستگی اور سیاق و سباق کی حساسیت کا امتزاج پیش کرتا ہے، اور مستقبل کی تحقیق اور عملی استعمال کے امکانات کو بڑھاتا ہے۔ جیسے جیسے یہ قبولیت حاصل کرے گا، اس کا اثر مختلف شعبوں میں واضح نظر آئے گا، اور AI کے کردار کو ایک طاقتور تعاون کنندہ کے طور پر دکھائے گا، جو پیچیدہ مسائل حل کرنے اور پیداوری بڑھانے میں مددگار ہوگا۔ اوپن اے آئی ذمہ داری سے AI کی ترقی جاری رکھے ہوئے ہے، شفافیت کو فروغ دیتا ہے اور دنیا بھر میں تعاون کرتا ہے تاکہ فوائد زیادہ سے زیادہ ہوں اور خطرات کم سے کم۔ GPT-5 کا آغاز ایک نئے مرحلے کا نشان ہے، جو زیادہ قابل اعتماد اور اہل AI نظامات کی ترقی کی طرف اہم قدم ہے، جو انسانیت کی متنوع ضروریات پوری کرنے کے لیے تیار ہیں۔
گوگل نے نئے اوزار متعارف کروائے ہیں جن سے خریداری کے عمل کو براہ راست AI موڈ میں مکمل کرنا اور برانڈیڈ AI ایجنٹس کے ساتھ سرچ کے نتائج میں بات چیت کرنا ممکن ہو گیا ہے۔ گاہکوں کے لیے گوگل پر قابلِ قبول فہرستوں سے مصنوعات خریدنا ممکن ہے، جب کہ فروخت کنندگان بطورِ ریکارڈ سیلر رہیں گے۔ تاہم، چیک آؤٹ گوگل کے پلیٹ فارمز پر ہوتا ہے نہ کہ فروخت کنندہ کی اپنی ویب سائٹ پر۔ یونیورسل کاروبار پروٹوکول AI موڈ میں چیک آؤٹ کو ممکن بناتا ہے گوگل نے یونیورسل کاروبار پروٹوکول (UCP) کا انکشاف کیا، جو ایک اوپن اسٹینڈرڈ ہے اور اسے "ایجنٹک کامرس" کہا جاتا ہے۔ یہ پروٹوکول AI موڈ میں گوگل کی مصنوعات کی فہرستوں کے لیے چیک آؤٹ کو سپورٹ کرتا ہے، چاہے وہ سرچ کے ذریعے ہو یا جیمینی ایپ میں۔ UCP کو Shopify، Etsy، Wayfair، Target، اور Walmart کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، 20 سے زائد دیگر کمپنیوں جیسے Adyen، American Express، Best Buy، Mastercard، Stripe، The Home Depot، اور Visa نے اس کی تصدیق کی ہے۔ خریدار گوگل پے کا استعمال کریں گے، جس میں ادائیگی اور شپنگ کی تفصیلات گوگل والٹ میں محفوظ ہیں۔ جلد ہی PayPal کی حمایت بھی شروع ہو رہی ہے۔ یہ چیک آؤٹ ابتدا میں امریکی ٹریڈرز کے لیے ہوگا، اور اس کا عالمی سطح پر پھیلاؤ کا منصوبہ ہے۔ برانڈیڈ چیٹ کے ساتھ بزنس ایجنٹ سرچ میں لایا گیا نیا بزنس ایجنٹ فیچر صارفین کو سرچ نتائج میں برانڈز کے ساتھ براہِ راست گفتگو کی سہولت دیتا ہے۔ گوگل اسے ایک "ورچوئل سیلز اسسٹنٹ" کہتا ہے جو برانڈ کی مخصوص آواز میں مصنوعات سے متعلق سوالات کے جواب دے سکتا ہے۔ یہ خصوصیت 12 جنوری کو شروع ہوگی اور اس کے ساتھ Lowe’s، Michael’s، Poshmark، Reebok، اور دیگر شامل ہوں گے۔ قابلِ قبول امریکی ٹریڈرز اپنے ایجنٹس کو مرچنٹ سینٹر کے ذریعے فعال اور ذاتی بنا سکتے ہیں۔ مستقبل میں ایجنٹس کی تربیت، مخصوص پروموشنز کی پیش کش، اور چیٹ انٹرفیس کے ذریعے خریداری کی سہولت شامل ہے۔ ڈائریکٹ آفرز پائلٹ پروگرام AI موڈ میں اشتہارات متعارف کراتا ہے گوگل نے ڈائریکٹ آفرز بھی اعلان کی ہیں، جو ایک پائلٹ پروگرام ہے جس میں صارفین کو مصنوعات تلاش کرتے ہوئے خصوصی چھوٹ دی جاتی ہے۔ مثلاً، ایک قالین کی تلاش پر متعلقہ فروخت کنندگان سے 20% تخفیف کی خصوصی پیش کش ظاہر ہو سکتی ہے۔ یہ آفرز مشتہرین کی طرف سے کیمپین سیٹنگز میں ترتیب دی جاتی ہیں، جبکہ گوگل فیصلہ کرتا ہے کہ کب دکھانی ہے۔ ابتدائی پارٹنرز میں Petco، e
مصنوعی ذہانت (AI) تیزی سے کاروباروں کے طریقہ کار کو بدل رہی ہے اور اس نے ایک جدید تصور، جسے "وائپ سیلنگ" کہتے ہیں، متعارف کروایا ہے۔ یہ طریقہ "وائب کوڈنگ" سے متاثر ہے، جس میں سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ میں روایتی پروگرامنگ زبانوں کی بجائے قدرتی زبان کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح، وائپ سیلنگ میں AI کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ سیلز پیشہ ور افراد اور ذہین نظاموں کے درمیان زیادہ متحرک اور تکراری تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔ مقصد روٹین، وقت طلب سیلز کے کاموں کو خودکار بنانا ہے—جیسے ای میل کا مسودہ تیار کرنا، کھاتہ جاتی تحقیق کرنا، اور سیلز گفتگو کا تجزیہ کرنا—تاکہ سیلز افراد زیادہ تر تعلقات استوار کرنے اور معاہدے بند کرنے پر توجہ مرکوز کر سکیں۔ سیلز ٹیموں میں AI کے آلات کی ترقی ایک بڑے انقلابی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے، جو AI کو صرف پس منظر کی ایک سہولت سے تبدیل کرکے ایک فعال اور قیمتی شریک کار بنا رہی ہے۔ AI اب صرف پس منظر میں کام کرنے کے بجائے روزمرہ کے کاموں میں گہرائی سے شامل ہو چکی ہے، اور یہ حقیقی وقت میں بصیرت فراہم کرتی ہے جو فیصلہ سازی اور مجموعی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے۔ آپریشنز کو ہموار کرکے، AI سیلز ٹیموں کو زیادہ مؤثر اور مربوط طریقے سے کام کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، جس سے مختلف صنعتوں میں بہتر سیلز نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ وسیع تحقیق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ AI کا حقیقی اثر سیلز کی کارکردگی پر پڑتا ہے۔ مثلاً، Gong Labs کے مطابق، AI پر مبنی آلات استعمال کرنے والی سیلز نمائندے غیر استعمال کرنے والوں سے 77% زیادہ آمدنی پیدا کرتے ہیں۔ یہ زبردست آمدنی میں اضافہ AI کے اہم کردار کو ظاہر کرتا ہے، جو سیلز کی حکمت عملی اور نتائج کو دوبارہ شکل دے رہا ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ AI اب صرف ایک مستقبل کا خیال نہیں بلکہ تنظیموں کے لیے ایک حقیقی، ماپا جانے والا فائدہ ہے جو سیلز کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان انوکھائیوں کے باوجود، انسانی عنصر کا کردار اب بھی کلیدی ہے۔ اگرچہ AI کارکردگی میں اضافہ کرتا ہے اور ڈیٹا پر مبنی بصیرت فراہم کرتا ہے تاکہ سیلز کے طریقے بہتر بنیں، لیکن یہ اس انسانی عنصر کی جگہ نہیں لے سکتا—اعتماد، ہمدردی، اور جذباتی ذہانت۔ یہ خصوصیات اصل کلائنٹ تعلقات قائم کرنے اور معاہدے بند کرنے کی نازک پیچیدگیوں میں رہنمائی کے لیے ناگزیر ہیں۔ انسانی لمس ایسی گہرائی اور سمجھ بوجھ فراہم کرتا ہے جو AI کی موجودہ صلاحیتوں سے بالاتر ہے۔ آنے والے وقت میں، سیلز کا مستقبل ایک ہیبریڈ ماڈل کے گرد گھومنے کی توقع ہے، جس میں انسانی مہارت اور AI کی مؤثر صلاحیتیں مل کر کام کریں گی۔ یہ امتزاج ایک زیادہ بااختیار سیلز فورس کا وعدہ کرتا ہے، جو ڈیٹا اور ذہین خودکار نظام سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے، وہ ذاتی رابطہ اور دل کشی کو بھی برقرار رکھتی ہے جو کامیاب سیلنگ کے بنیادی عوامل ہیں۔ "وائب" کا تصور ایسے شعبوں میں بھی ممکنہ اطلاقات رکھتا ہے جہاں انسان اور AI کے تعاون سے قابلِ قدر فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ، وائپ سیلنگ سیلز کے طریقہ کار میں ایک اہم نقطہ نظر کی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں AI ایک معاون کے طور پر سے بڑھ کر ایک مرکزی شریک بن جاتا ہے، جو سیلز ٹیموں کے کرداروں کو بدل دیتا ہے۔ repetitive کاموں کو خودکار بنا کر اور قابلِ عمل بصیرت فراہم کرکے، AI سیلز پیشہ ور افراد کو زیادہ وقت اور توانائی اسٹریٹجک سرگرمیوں میں لگا نے کی اجازت دیتا ہے جن میں انسانی فیصلے اور بین الشخصی مہارتیں درکار ہوتی ہیں۔ نتیجہ ایک زیادہ موثر، ڈیٹا سے آراستہ، لیکن بنیادی طور پر انسانی مرکز سیلز کا عمل ہے، جو بڑھتی ہوئی مقابلہ بازی والی مارکیٹ میں کامیابی اور لچکدار ہونے کا وعدہ کرتا ہے۔ جب تنظیمیں AI اور انسانی بصیرت کے اس امتزاج کو اپنائیں گی، تو وہ نئی اختراعات کی سرحد پر کھڑی ہوں گی، اور اس بدلتی ہوئی عہد کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہوں گی۔
دسمبر میں، اشتہاری صنعت کو ۲۸۰۰ ملازمتوں کا نقصان ہوا، جبکہ امریکہ میں کل روزگار ہلکے انداز میں ۵۰۰۰۰ نوکریوں کے اضافے کے ساتھ بڑھا۔
مصنوعی ذہانت سے چلنے والی ویڈیو کمپریشن ٹیکنالوجیز میں ترقییں آن لائن ویڈیو مواد کے اسٹریمینگ کے انداز کو بدل رہی ہیں۔ یہ جدید طریقے اسٹریمنگ کی معیار کو بہت بڑھاتے ہوئے دنیا بھر کے ناظرین کے لیے ایک ہموار اور مزید لطف اندوز تجربہ فراہم کرتے ہیں۔ AI پر مبنی کمپریشن کا ایک اہم فائدہ buffering کے وقت میں نمایاں کمی ہے — جو طویل عرصے سے ایک frustrate کا سبب رہا ہے، خاص طور پر محدود بینڈوڈتھ والے صارفین کے لیے۔ ان جدتوں کا مرکز AI کی صلاحیت ہے کہ وہ ویڈیو مواد کا زیادہ ذہانت سے تجزیہ کرے، مؤثر طریقے سے ڈیٹا کو کمپریس کرے بغیر معیار کو قربان کیے۔ روایتی کمپریشن تکنیکوں کے برعکس، جو یکساں طریقوں کو لاگو کرتی ہیں اور-resolution کو کم یا وضاحت برقرار رکھنے کے لیے زیادہ بینڈوڈتھ کی ضرورت ہوتی ہے، AI کے نظام مختلف ویڈیو حصوں کی پیچیدگی اور اہمیت کا اندازہ لگاتے ہیں۔ یہ اہم تفصیلات رکھنے والے ڈیٹا کو محفوظ رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ کم اہم حصوں کو زیادہ تیزی سے کمپریس کرتے ہیں۔ یہ تخصیص شدہ طریقہ زیادہ معیار والی اسٹریمز پیدا کرتا ہے جو دستیاب نیٹ ورک کے حالات کے مطابق لچکدار طریقے سے بدلتی رہتی ہیں۔ ایسی کامیابیاں خاص طور پر مفید ہیں ان اسٹریمینگ پلیٹ فارمز کے لیے جو صارف کے تجربے کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ AI سے چلنے والی کمپریشن اپنانے سے، فراہم کنندگان واضح تصاویر فراہم کرسکتے ہیں، لوڈنگ کے وقت کو کم کر سکتے ہیں، اور سست انٹرنیٹ کنکشن کی وجہ سے رکاوٹوں کو minimize کر سکتے ہیں۔ یہ نہ صرف موجودہ سبسکرائبرز کے اطمینان کو بڑھاتا ہے بلکہ نئے ناظرین کو بھی اپنی طرف متوجہ کرتا ہے جو مختلف آلات اور مقامات پر قابل اعتماد، ہائی ریزولوشن پلے بیک چاہتے ہیں۔ مزید برآں، یہ ترقیات ان گروہوں کے لیے بھی شامل ہیں جن کے انٹرنیٹ کے انفراسٹرکچر میں کمزوری ہے، کیونکہ وہ ہائی کوالٹی اسٹریمینگ مواد تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ کم بینڈوڈتھ کی ضروریات انہیں کم رفتار والے نیٹ ورکس پر بھی پریمیم دیکھنے کا تجربہ فراہم کرتی ہیں بغیر زیادہ ڈیٹا استعمال یا ویڈیو میں توقف کے۔ یہ جمہوریت دیجٹل مساوات اور عالمی رابطہ کاری کے بڑے مقاصد کی حمایت کرتی ہے۔ تکنیکی طور پر، ویڈیو کمپریشن میں استعمال ہونے والے AI ماڈلز گہری سیکھنے کے فریم ورکس پر انحصار کرتے ہیں، جو وسیع ویڈیو ڈیٹا سیٹس پر تربیت یافتہ ہوتے ہیں۔ یہ ماڈلز پیٹرن، موشن ویکٹرز، اور سین سی تبدیلیوں کا پتہ لگاتے ہیں، اور اصل وقت میں کمپریشن کی شرح کو ایڈجسٹ کرتے ہیں۔ یہ تصور کرتے ہیں کہ کون سے فریم کو زیادہ تفصیل کی ضرورت ہے تاکہ perceptual کوالٹی کو برقرار رکھا جا سکے اور کون سے فریم کو آسان بنایا جا سکتا ہے۔ یہ ذہانت سے منتخب انہانسمنٹ ریسورسز ویڈیو کی ترسیل میں کارکردگی کو بہتر بناتی ہے، روایتی کوڈیکس سے بالاتر۔ ان AI ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھانے والے اسٹریم سروسز اپنی مسابقتی برتری بھی حاصل کرتے ہیں کیونکہ آپریٹنگ اخراجات کم ہوتے ہیں۔ مؤثر کمپریشن سے ڈیٹا کی ٹرانسمیشن اور اسٹوریج کے اخراجات کم ہوتے ہیں کیونکہ یہ کم بینڈوڈتھ اور کم ڈسک جگہ کا استعمال کرتی ہے۔ یہ بچت مزید بہتر پلیٹ فارم انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری یا صارفین کو کم قیمت سبسکرپشنز کے ذریعے واپس کی جا سکتی ہے۔ صنعت کے رہنما فعال طور پر نئی AI الگورتھمز کی تحقیق اور ترقی میں مصروف ہیں تاکہ تیزی سے بدلتے میڈیا کے میدان میں برتری برقرار رکھی جا سکے۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں، تعلیمی اداروں، اور اسٹریمینگ پرووائیڈرز کے درمیان تعاون اس میدان میں جدت کو بڑھا رہے ہیں۔ مستقبل کی ترقی ایسے ماڈلز لا سکتی ہے جو فرداً فرداً صارف کی ترجیحات اور آلے کی خصوصیات کے مطابق اصل وقت میں بہتر کرسکیں۔ ختماً، AI پر مبنی ویڈیو کمپریشن میں جاری ترقییں اسٹریمینگ صنعت میں ایک مثبت تبدیلی لا رہی ہیں۔ یہ ٹیکنالوجیز ویڈیو کے معیار کو نمایاں طور پر بہتر بناتے ہوئے buffersاور بینڈوڈتھ کی کھپت کو کم کرتی ہیں، جس سے صارف کا تجربہ بہتر ہوتا ہے، رسائی میں اضافہ ہوتا ہے، اور خدمات فراہم کرنے والوں کے لیے معاشی فوائد پیدا ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے AI ترقی کرتا جائے گا، ناظرین ایک زیادہ ہموار اور غوطہ خوری سے بھرپور ڈیجیٹل تفریح کے مستقبل کی توقع کر سکتے ہیں۔
Launch your AI-powered team to automate Marketing, Sales & Growth
and get clients on autopilot — from social media and search engines. No ads needed
Begin getting your first leads today