OpenAI نے ایک جديد اور انقلابی نئے اوزار 'آپریٹر' متعارف کروایا ہے، جو کہ ایک مصنوعی ذہانت والا ایجنٹ ہے، خاص طور پر ویب پر کام انجام دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت کاروباری ماحول میں مصنوعی ذہانت کے استعمال میں ایک اہم ترقی ہے، جس سے پیداواریت میں اضافہ ہوتا ہے۔ آپریٹر براہ راست اسکرین کے عناصر کے ساتھ بات چیت کرتا ہے، جس سے یہ مختلف ویب پر مبنی کاموں کو مؤثر طریقے سے انجام دینے کے قابل ہو جاتا ہے۔ آپریٹر کا اجرا ایسے وقت میں ہورہا ہے جب کاروبار اپنی ورک فلو میں بار بار ہونے والے اور معمولی عمل کو خودکار بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہے ہیں۔ آپریٹر کے استعمال سے کمپنیاں آپریشنز کو ہموار، دستی محنت کو کم اور مجموعی پیداواریت کو بہتر بنا سکتی ہیں۔ یہ AI ایجنٹ ویب صفحات کو نیویگیٹ، بٹن پر کلک، ڈیٹا درج اور دیگر ایسے اقدامات انجام دے سکتا ہے جو روایتی طور پر انسان انجام دیتے ہیں۔ آپریٹر کی ایک اہم خصوصیت اس کی یہ صلاحیت ہے کہ یہ مختلف قسم کے ویب عناصر کو سمجھ اور ان پر قابو حاصل کر سکتا ہے، جس سے یہ مختلف ایپلی کیشنز کے لیے بےحد موزوں ہو جاتا ہے۔ کمپنیوں کے لیے، اس کا مطلب ہے کہ ڈیٹا انٹری، معلومات حاصل کرنا اور مختلف ویب پلیٹ فارمز پر پیچیدہ مراحلے کو خودکار بنا دینا آسان اور قابل اعتماد ہو جاتا ہے۔ OpenAI کا آپریٹر کاروباری ورک فلو مینجمنٹ کو بدلنے کا وعدہ کرتا ہے، کیونکہ یہ ایک ذہین معاون کے طور پر کام کرتا ہے جو ویب انٹرفیس کے ساتھ بے عیب انداز میں مربوط ہو سکتا ہے۔ اس سے مخصوص سافٹ ویئر حلوں پر انحصار کم ہوتا ہے اور کمپنیاں بدلتے ہوئے ویب ٹولز اور ایپلی کیشنز سے جلدی سے ہم آہنگ ہو سکتی ہیں۔ آپریٹر کو ورک فلو میں شامل کرنے کے فوائد صرف خودکاری تک محدود نہیں ہیں۔ معمولی کاموں کو سنھبالنے سے ملازمین زیادہ تر وقت حکمت عملی اور تخلیقی کاموں پر توجہ مرکوز کر سکتے ہیں، جس سے ملازمت میں تسکین اور جدت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اضافی طور پر، بار بار ہونے والے عمل کو خودکار بنانے سے انسانی غلطیوں میں کمی آتی ہے، جو عملدرآمد میں زیادہ درستگی اور تسلسل کا سبب بنتا ہے۔ مزید برآں، آپریٹر کی ترتیب OpenAI کے اس وسیع عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ AI ٹیکنالوجیز انسان کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے تیار کی جائیں، نہ کہ ان کا متبادل بنیں۔ ایک معاون کے طور پر کام کرتے ہوئے، جو سادہ اور معمولی کاموں کو خودکار بناتا ہے، آپریٹر ورکروں کو اپنی مہارتیں زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کا اختیار دیتا ہے، جس سے بالآخر بہتر کاروباری نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ عملی طور پر، کمپنیاں آپریٹر کو کسٹمر ڈیٹا مینجمنٹ، آن لائن ٹرانزیکشنز، رپورٹس تیار کرنے یا مطابقت کے لیے استعمال کر سکتی ہیں، تاکہ ڈیٹا ہینڈلنگ مستقل اور معیاری بنائی جا سکے۔ اس کی لچک اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسے مختلف صنعتوں کے مخصوص تقاضوں کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے، جن میں مالیات، صحت، ریٹیل اور دیگر شامل ہیں۔ آپریٹر کی ترقی اس بڑھتی ہوئی رجحان کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ AI ٹولز موجودہ ڈیجیٹل سیستم کے ساتھ مربوط ہو کر آزادانہ طریقے سے کام کرنے کے بجائے زیادہ مربوط اور مؤثر انداز میں ضم ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ طریقہ کار کمپنیوں کو ہموار اپناؤ اور زیادہ اثر پیدا کرنے کی اجازت دیتا ہے، تاکہ وہ اپنے موجودہ نظام کو آپریٹر جیسے ذہین ایجنٹس کے ذریعے بہتر بنا سکیں، بغیر مکمل نظام کی تبدیلی کے۔ جیسے جیسے تنظیمیں تیزی سے بدلتے ہوئے ڈیجیٹل ماحول میں قدم جما رہی ہیں، ایسے اوزار جیسے آپریٹر ڈیجیٹل تبدیلی کے اہم معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ یہ سکالیبلٹی، کارکردگی اور لچک کے مسائل کا عملی حل فراہم کرتے ہیں، جو کہ آج کے بازاروں میں مقابلہ بازی برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔ نتیجہ کے طور پر، OpenAI کا آپریٹر تعارف کارپوریٹ پیداواریت کے حوالے سے ایک اہم قدم ہے۔ یہ ویب انٹرفیس کے ساتھ AI پر مبنی تعاملات کو ممکن بنا کر، کاروباری اداروں کو معمولی کاموں کی خودکاری، آپریشنل بوجھ کم کرنے اور ملازمین کو زیادہ اہم اور اعلیٰ قدر کے کاموں پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس کے وسیع پیمانے پر اپنائے جانے کے ساتھ، یہ عصر حاضر کے کاروباری ورک فلو کا ایک اہم جز بن جائے گا، جس سے صنعتوں میں جدت اور کارکردگی کو فروغ ملے گا۔
مارچ 2024 میں، یوٹیوب نے اپنی مواد کی پالیسیز میں ایک اہم اپ ڈیٹ کی، جس میں تخلیق کاروں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ واضح طور پر ظاہر کریں کہ آیا ان کے ویڈیوز میں ترمیم شدہ یا مصنوعی میڈیا شامل ہے جو حقیقت جیسا دکھائی دے سکتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد شفافیت کو فروغ دینا اور اپنے عالمی ناظرین کے لیے ایک زیادہ قابلِ اعتماد پلیٹ فارم بنانا ہے۔ مصنوعی اور ترمیم شدہ میڈیا میں ڈیجیٹل طور پر ترمیم شدہ مواد شامل ہے جیسے کہ ڈیپ فیکس، کمپیوٹر سے تیار کردہ تصاویر، اور دیگر ویڈیو ترمیمات جو حقیقت کی نقل کرتے ہوئے نظر آتی ہیں۔ جیسے جیسے یہ ٹیکنالوجیز ترقی کرتی جا رہی ہیں، غلط معلومات، دھوکہ دہی، اور فریب کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔ تخلیق کاروں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپ لوڈ کے دوران واضح طور پر ویڈیوز پر مصنوعی یا ترمیم شدہ عناصر کا لیبل لگائیں، تاکہ ناظرین کو مواد کی اصلیت سمجھنے میں مدد ملے۔ یہ لیبلنگ سسٹم آسانی سے پہچانا جا سکتا ہے، جس سے ناظرین کے لیے یہ تمیز کرنا ممکن ہو جائے گی کہ کب مواد میں ڈیجیٹل ترمیم کی گئی ہے۔ یہ اقدام یوٹیوب کے وسیع تر مشن کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے، جس کا مقصد غلط معلومات سے نمٹنا اور صارفین کو معلوماتی فیصلے کرنے میں مدد دینا ہے۔ یہ اپ ڈیٹ آن لائن پلیٹ فارمز پر بڑھتی ہوئی نگرانی کے جواب میں آیا ہے، خاص طور پر ایسے جدید ڈیپ فیکس اور مصنوعی میڈیا کے آلات کے بڑھتے استعمال کے سبب، جن کا استعمال عوامی رائے، شہرت، اور سیاسی عمل پر اثر ڈالنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ شفافیت کو فروغ دینے کے علاوہ، یہ قواعد ایک محفوظ آن لائن کمیونٹی بنانے کے لیے بھی ہیں، تاکہ فریب دہ مواد بغیر ذمہ داری کے پھیلنے سے روکا جا سکے اور صارفین کے تجربات کو صحتمند بنایا جا سکے۔ انفورسمنٹ کے لیے خودکار تشخیص ٹیکنالوجیز اور کمیونٹی ریپورٹنگ کا امتزاج استعمال کیا جائے گا۔ جن ویڈیوز کے لیبل صحیح طریقے سے نہیں لگیں گی، ان پر نتیجے کے طور پر آمدن بند کرنا، ہٹانا یا سخت حالت میں اکاؤنٹ کی سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ یوٹیوب تعلیمی وسائل میں بھی سرمایہ کاری کر رہا ہے تاکہ تخلیق کاروں کو سمجھنے میں مدد ملے کہ کون سا مواد مصنوعی یا ترمیم شدہ میڈیا کی قیمت رکھتا ہے اور وہ نئے قواعد کی پیروی کیسے کریں۔ اس طرح پلیٹ فارم اور مختلف تخلیقی افراد کے درمیان تعاون مضبوط ہوتا ہے۔ صنعت کے ماہرین نے یوٹیوب کے نئے قوانین کا خیرمقدم کیا ہے، اور ڈیجیٹل عمر میں شفافیت کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مؤثر عمل درآمد کے لیے مستقل نگرانی اور ٹیکنالوجی میں جاری ترقی ضروری ہے۔ یوں، یوٹیوب کے وسیع عالمی ناظرین کے پیش نظر، ان پالیسیز کے بارے میں واضح کمیونیکیشن بہت ضروری ہے تاکہ مختلف علاقوں اور ثقافتوں میں ان کی پیروی آسان ہو۔ یہ اعلان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میں ایک وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جس میں مصنوعی اور ترمیم شدہ میڈیا کے استعمال اور ان کے ظاہر کرنے کے معیارات قائم کیے جا رہے ہیں، اور ایک جدید اتفاق رائے کو فروغ دیا جا رہا ہے کہ ڈیجیٹل شفافیت آن لائن معلومات کی سالمیت کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ، یوٹیوب کے نئے مواد کے قواعد، جن میں تخلیق کاروں سے کہا گیا ہے کہ وہ مصنوعی یا ترمیم شدہ میڈیا کا تذکرہ کریں، جدید ڈیجیٹل ترمیم سے پیدا ہونے والی مشکلات سے نمٹنے میں ایک اہم قدم ہیں۔ شفافیت اور ناظرین کے شعور میں اضافے کے ذریعے، پلیٹ فارم اعتماد قائم کرنا اور صارفین کو گمراہ کن مواد سے بچانا چاہتا ہے۔ جیسے جیسے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز ترقی کریں گی، یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز کو اختراع اور ذمہ داری کے درمیان توازن برقرار رکھنا اہم کردار ادا کرے گا تاکہ صارفین کو آن لائن مواد کے وسیع دائرے میں اعتماد کے ساتھ نیویگیشن کرنے کا مواقع ملے۔
مصنوعی ذہانت (AI) مارکیٹنگ کو اس حد تک بدل رہی ہے کہ اس کا اثر یہ ہے کہ برانڈز کس طرح ناظرین سے رابطہ کرتے ہیں اور حکمتِ عملی اپناتے ہیں، اسے دوبارہ تشکیل دے رہی ہے۔ یہ تبدیلی زیادہ تر AI کی صلاحیت کی وجہ سے ہے کہ وہ تیزی سے بڑے پیمانے پر ڈیٹا کا تجزیہ کرے، رجحانات کی پیش گوئی کرے، گاہک کے تعاملات کو شخصی بنائے، اور معمول کے کاموں کو خودکار بنائے۔ AI کا امتزاج کاروباروں کو ہوشیار، زیادہ مؤثر طریقے اپنانے کی اجازت دیتا ہے جو نتائج کو بہتر بناتے ہیں اور گاہک کے ساتھ تعلقات کو گہرا کرتے ہیں۔ AI کے اثرات کا ایک اہم پہلو رجحان کی پیش گوئی ہے۔ صارفین کے رویے، سوشل میڈیا، اور مارکیٹ کے ڈیٹا کا تجزیہ کرکے، AI کے الگورتھمز نمونے معلوم کرتے ہیں اور مستقبل کے رجحانات کی پیش گوئی کرتے ہیں، جس سے برانڈز کو ترجیحات اور مارکیٹ کے حرکیات میں تبدیلی کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہ فعال طریقہ مارکیٹنگ کے لیے ایک اسٹریٹجک فائدہ فراہم کرتا ہے تاکہ مہمات اور مصنوعات کو پیشگی تیار کریں، بجٹس کو زیادہ مؤثر بناتے ہوئے اعلیٰ اثرات کے اقدامات پر توجہ مرکوز کریں۔ پرسنلائزیشن ایک اور اہم پیش رفت ہے جو AI کی مدد سے ممکن ہوئی ہے۔ جدید صارفین اپنے تجربات کو اپنی ترجیحات اور رویوں کے مطابق چاہتے ہیں۔ AI ٹولز براؤزنگ کی ہسٹری، خریداری کے ریکارڈز، اور سماجی تعاملات سے ڈیٹا جمع کرکے تفصیلی پروفائلز بناتے ہیں، جس سے مارکیٹرز کو متعلقہ مواد، پیشکشیں، اور تجاویز فراہم کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اس سے صارفین کی تسکین اور وفاداری میں اضافہ ہوتا ہے، تبدیلی کی شرح بڑھتی ہے، اور آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے، اس طرح مارکیٹنگ کو ایک متحرک، شخصی گفتگو میں تبدیل کردیا جاتا ہے۔ خودکار نظام آپریشنل کارکردگی کو بہت بہتر بناتے ہیں، کیونکہ یہ بار بار ہونے والے کاموں جیسے ای میل مارکیٹنگ، اشتہارات کی جگہ، سوشل میڈیا کی پوسٹنگ، اور لیڈ اسکورنگ کو AI پر مبنی پلیٹ فارمز کے ذریعے انجام دیتے ہیں۔ اس سے مارکیٹرز کو اسٹریٹجک اور تخلیقی کاموں پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع ملتا ہے، جبکہ مہمات کی مستقل اور دقیق عمل درآمد یقینی بنائی جاتی ہے۔ AI مسلسل حقیقی وقت میں مہمات کو بہتر بناتا ہے، کارکردگی کی بنیاد پر ایڈجسٹمنٹ کرتا ہے تاکہ نتائج زیادہ سے زیادہ ہوں، اور اس طرح مارکیٹنگ کے چکر زیادہ مؤثر اور سرمایہ کاری پر بہتر منافع کی جانب لے جاتے ہیں۔ AI اور مارکیٹنگ کا انضمام صارف کے علم میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ مشین لرننگ پیچیدہ ڈیٹا میں چھپی ہوئی خفیہ نمونے دریافت کرتی ہے، جو مصنوعات کی ترقی، تقسیم، اور مقابلہ جاتی پوزیشننگ کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہے۔ یہ تفصیلی سمجھ کاروباروں کو ایسے پیشکش کرنے کا موقع دیتی ہے جو مارکیٹ کی طلب کو بہتر طریقے سے پورا کریں اور مقابلوں میں نمایاں ہوں۔ AI صارف کے سفر کو بہتر بناتا ہے، چیٹ بوٹس اور ورچوئل اسسٹنٹس کے ذریعے جو فوری، شخصی مدد فراہم کرتے ہیں، جس سے رابطہ اور جوابدہی میں اضافہ ہوتا ہے۔ پیشن گوئی تجزیات کی مدد سے پیشگی اقدامات کیے جاتے ہیں، مسائل کو جلد حل کیا جاتا ہے، اور صارف کے تجربے کو بلند کیا جاتا ہے، اعتماد پیدا ہوتا ہے اور برانڈ کی وفاداری مضبوط ہوتی ہے۔ تاہم، AI کے انضمام سے چیلنجز بھی سامنے آتے ہیں، جن میں ڈیٹا کی رازداری، شفافیت، اور جانبداری کے بارے میں اخلاقی تشویشات شامل ہیں۔ مارکیٹرز کو GDPR جیسے قوانین کی پیروی کرنی ہوتی ہے اور ذمہ داری سے ڈیٹا کا استعمال کرنا ہوتا ہے تاکہ صارف کے اعتماد کو برقرار رکھا جا سکے۔ AI کو اپنانا سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور مہارت میں اضافہ، اور ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کی ثقافت کو اپنانا بھی ضروری ہے۔ مستقبل میں، AI کا کردار قدرتی زبان پروسیسنگ، کمپیوٹر وژن، اور علمی کمپیوٹنگ کی ترقی کے ساتھ بڑھتا رہے گا۔ یہ خصوصیت متحرک مواد کی تخلیق، ہائپرسپیشلائزڈ تجربات، اور آرٹیفیشل اور ورچوئل ریئلیٹی کے ذریعے immersive اشتہارات کو ممکن بنائیں گے۔ وہ مارکیٹرز جو جدید AI ٹیکنالوجیز سے مہارت سے استفادہ کریں گے، انہیں مقابلہ کے اس مقدس ڈیجیٹل میدان میں بہتر مقام ملے گا۔ خلاصہ یہ ہے کہ AI مارکیٹنگ میں انقلاب برپا کر رہا ہے، کیونکہ یہ صحیح رجحانات کی پیش گوئی، گہری شخصی تخلیق، اور مؤثر کاموں کے خودکار انجام کو ممکن بناتا ہے۔ یہ ترقی ذہین تر مارکیٹنگ کے طریقے پیدا کرتی ہے جو صارف کے ساتھ رابطہ مضبوط بناتے ہیں، آپریشن کی مؤثر طریقے سے بہتری لاتے ہیں اور کاروباری نمو کو بڑھاتے ہیں۔ چیلنجز کے باوجود، AI کے تعاون کے دیرپا فوائد برانڈز کو مستقبل کی کامیابی کی جانب لے جاتے ہیں۔
ایورٹون AI، نیو یارک میں قائم ایک کمپنی ہے جو مصنوعی ذہانت کی مارکیٹنگ ٹیکنالوجی میں مہارت رکھتی ہے، جس نے 15 ملین ڈالر کے سیریز اے فنڈنگ حاصل کی ہے۔ اس تازہ سرمایہ کاری کی روپے میں قیادت فیلکسس وینچرز نے کی، جو معروف وینچر کیپٹل فرم ہے اور جدید ٹیکنالوجی کمپنیوں کی حمایت کے لیے جانی جاتی ہے۔ اس حالیہ سرمایہ کاری کے ساتھ، ایورٹون AI کی مجموعی فنڈنگ 19 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ یہ کمپنی جنریٹو انجن آپٹیمائزیشن (GEO) پر مرکوز ہے، جو ایک جدید AI مرکزیت والی تلاش کی بہتر بنانے کا طریقہ ہے، جس کا مقصد برانڈز کو اس بات کی نگرانی اور بہتری کرنے میں مدد دینا ہے کہ وہ بڑی زبان ماڈلز (LLMs) کے ذریعے پیدا کیے گئے جوابوں میں کیسے نظر آتے ہیں۔ یہ AI نظام معروف پلیٹ فارمز جیسے اوپن اے آئی کا ChatGPT، گوگل کا جیمینی، انتھروپک کا کلاڈ، اور پیچ کے AI شامل ہیں۔ ڈیجیٹل تلاش اور مصنوعات دریافت میں گہری تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔ روایتی سرچ انجن، جو ایک وقت میں معلومات اور مصنوعات کی سفارشات کے لیے اہم ذریعہ تھے، اب کم یا زیادہ حد تک AI چیٹ بوٹز سے بدل رہے ہیں۔ یہ بات چیت کرنے والے AI ٹولز صارفین کو براہ راست، اکثر ذاتی نوعیت کے، جوابات فراہم کرتے ہیں، جو عموماً پیچیدہ زبان کی سمجھ کے ماڈلز کے ذریعے تیار کیے جاتے ہیں۔ یہ تبدیلی برانڈز کے لیے چیلنجز اور مواقع دونوں پیدا کرتی ہے تاکہ وہ ڈیجیٹل مارکیٹ پلیس میں اپنی مضبوط موجودگی اور اثر قائم رکھ سکیں۔ ایورٹون AI اس تبدیلی سے نمٹنے کے لیے برانڈز کو ایسے ابزار فراہم کرتا ہے کہ وہ بہتر طریقے سے سمجھ سکیں کہ ان کے مصنوعات اور خدمات AI-جنیریٹڈ سرچ نتائج میں کیسے ظاہر ہوتے ہیں۔ ان کی ٹیکنالوجی یہ ممکن بناتی ہے کہ برانڈز اپنی مصنوعات اور خدمات کے جواب میں AI چیٹ بوٹس کے ردعمل اور دیگر LLM پر مبنی آؤٹ پٹس کو ٹریس کریں۔ یہ بصیرت بہت اہم ہے کیونکہ AI نظام مواد پیدا کرنے میں بہت مختلف ہو سکتے ہیں، اور اکثر مختلف ذرائع سے معلومات کو جمع کر کے صارفین کے سوالات کے لیے مناسب جواب تیار کرتے ہیں۔ جنریٹو انجن آپٹیمائزیشن کا استعمال کرکے، ایورٹون AI برانڈز کو اپنی مواد اور نمائش کو AI پلیٹ فارمز کے لیے بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے، جو روایتی سرچ انجن آپٹیمائزیشن (SEO) حکمت عملیوں سے آگے بھی بڑھتا ہے۔ یہ طریقہ کار اس وقت اور زیادہ اہم ہو جاتا ہے جب AI سے چلنے والے چیٹ بوٹس مصنوعات کی سفارشات اور صارفین کے تعاملات کے اہم ذرائع بن جاتے ہیں۔ اس کمپنی کا جدت انگیز طریقہ کار برانڈز کو نہ صرف سمجھنے کے قابل بناتا ہے بلکہ وہ اپنی پوزیشننگ کو بھی اثر انداز کر سکتے ہیں، خاص طور پر ابھرتے ہوئے AI نظاموں میں۔ یہ صلاحیت اہمیت حاصل کرتی جارہی ہے کیونکہ صارفین خریداری، خدمات، اور معلومات کی دریافت کے لیے AI چیٹ بوٹس پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ فیلکسس وینچرز کی قیادت میں سیریز اے کی یہ سرمایہ کاری، ایورٹون AI کے وژن اور جنریٹو انجن آپٹیمائزیشن ٹیکنالوجی کے وسیع ممکنات میں سرمایہ کاری کے حوالے سے سرمایہ کاروں کا اعتماد ظاہر کرتی ہے۔ یہ فنڈز غالباً کمپنی کی ٹیکنالوجی کے ارتقاء، پلیٹ فارم کو وسعت دینے، اور مارکیٹ میں رسائی بڑھانے کے لیے استعمال ہوں گے تاکہ AI سے منسلک تلاش کے منظرنامے کے مطابق اور زیادہ برانڈز کی خدمت کی جا سکے۔ جیسے جیسے AI ترقی کرتا جائے گا اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کو بدلتا جائے گا، ایسی کمپنییں جیسے ایورٹون AI اس تبدیلی کے سر کے محاذ پر اپنی جگہ بنا رہی ہیں۔ ان کا کام تلاش اور دریافت کی بدلتی ہوئی نوعیت کو اجاگر کرتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ برانڈز کے لیے آگے بڑھنے والی اور بدلتی دنیا میں کامیابی کے لیے اطلاقی، مستقبل کی سوچ والی حکمت عملی ضروری ہے۔ جملہ کے طور پر، ایورٹون AI کی حالیہ سیریز اے فنڈنگ سے ایک اہم مارکیٹ کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے وسیع وسائل فراہم ہوئے ہیں۔ جنریٹو انجن آپٹیمائزیشن پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، ایورٹون AI برانڈز کو رہنمائی اور تشکیل دینے کے قابل بنا رہا ہے کیونکہ یہ روایتی سرچ انجن سے لے کر AI سے بھرپور چیٹ بوٹس تک کے بدلتے ہوئے منظرنامے میں اپنی نمائش اور رابطے کو بڑھاتے ہیں، جو کہ ایک بڑھتی ہوئی AI پر مبنی ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے مستقبل میں برانڈز کے لیے بہتر مواقع فراہم کرتا ہے۔
سان فرانسسکو میں قائم کمپنی، جو چیٹ جی پی ٹی کے پیچھے ہے، بیلور میں دوسری جگہ قائم کر رہی ہے۔ OpenAI کا ارادہ ہے کہ وہ بیلور کے سٹی سینٹر پلازا میں 10 مزید کمرے کرائے پر لے، جییک وائر کی رپورٹ کے مطابق۔ مزید معلومات: وہ انسانی کوڈرز جو AI کی غلطیوں کو دور کرنے کے لئے بھرتی کیے گئے ہیں یہ واحد AI کمپنی نہیں ہے جو ایسٹ سائڈ کی طرف پھیل رہی ہے۔ ایل اون مسک کی xAI بھی اپنی آفسیں لنکن اسکوائر ساؤتھ عمارت میں قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جیسا کہ بیلور شہرات میں جمع کرائی گئی اجازت نامہ فائلوں سے پتہ چلتا ہے۔ نہ ہی OpenAI اور نہ ہی xAI نے اپنی نئی دفاتر کے بارے میں سوالات کے جواب دیے ہیں۔ یہ نئے مقامات دونوں کمپنیوں کو مائیکروسافٹ کے ریڈ منڈ اور ایمیزون کے سیٹل پر قریب تر لے آتے ہیں، جو کلاؤڈ کے اہم ساتھی ہیں اور AI کے بڑھتے ہوئے رجحان میں مدد دے رہے ہیں۔
ریٹیلرز اپنے اسٹورز کے اندر صارفین کے رویوں کے بارے میں گہری معلومات حاصل کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) وڈیو اینالیٹکس کو تیزی سے اپنا رہے ہیں۔ AI سے چلنے والے نظاموں کا استعمال کرتے ہوئے، وہ یہ ٹریک کرسکتے ہیں کہ خریدار مصنوعات کے ساتھ کیسے تعلقات قائم کرتے ہیں، کس جگہ زیادہ وقت گزارتے ہیں، اور پورے اسٹور میں ان کے حرکت کے انداز کا مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ یہ تکنیک اہم ڈیٹا جمع کرتی ہے جس سے ریٹیلرز کو خریداری کی عادات اور ترجیحات کا بے مثال تفصیلی تجزیہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ AI وڈیو اینالیٹکس کا ایک بڑا فائدہ اسٹور کے لےآؤٹ اور مصنوعات کی جگہ بندی کو بہتر بنانے کی استطاعت ہے۔ یہ دیکھ کر کہ کون سے علاقے سب سے زیادہ توجہ حاصل کرتے ہیں اور خریدار مختلف حصوں میں کس طرح حرکت کرتے ہیں، ریٹیلرز اپنے اسٹورز کو اس طرح ترتیب دے سکتے ہیں کہ خریداری کو زیادہ مؤثر بنایا جائے اور مصنوعات کی نمائش میں اضافہ ہو۔ مثال کے طور پر، مقبول اشیاء کو اعلی ٹریفک والے مقامات پر رکھا جا سکتا ہے، جبکہ کم مصروفیت والی مصنوعات کو حکمت عملی کے تحت دوسری جگہوں پر منتقل کیا جا سکتا ہے تاکہ فروخت بڑھے۔ لےآؤٹ میں بہتری کے علاوہ، AI اینالٹکس یہ بھی معلومات فراہم کرتے ہیں جو ریٹیلرز کو بہتر اسٹاف کا فیصلہ کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ چونکہ مارکیٹنگ کے اہم دوروں اور صارفین کی روانگی کے پیٹرنز کی نگرانی کی جاتی ہے، اس لیے عملے کو مؤثر طریقے سے تعینات کیا جا سکتا ہے تاکہ صارفین کو بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں اور چیک آؤٹ یا ہیلپ ڈیسک پر انتظار کے وقت کو کم کیا جا سکے۔ یہ موثر وسائل کا انتظام نہ صرف خریداری کے تجربے کو بہتر بناتا ہے بلکہ آپریشنز میں بھی بچت کا سبب بن سکتا ہے۔ ذاتی نوعیت کی خدمات بھی AI وڈیو اینالیٹکس کو ریٹیل حکمت عملیوں کا اہم جز بناتی ہیں۔ ہر صارف کے رویوں اور ترجیحات کو سمجھ کر، ریٹیلرز مارکیٹنگ مہمات، تشہیرات اور اسٹور میں تجربات کو اس طرح سے تشکیل دے سکتے ہیں جو مختلف صارفین کے گروپوں کی ضروریات کو بہتر طریقے سے پورا کریں۔ یہ ذاتی نوعیت کے انداز مشتری کی وابستگی اور وفاداری کو بڑھاتے ہیں، جس سے اطمینان اور دوبارہ خریداری میں اضافہ ہوتا ہے۔ AI میں مستقل ترقیات مزید جدید ریٹیل اینالٹکس کے امکانات کو روشن کرتی ہیں۔ مستقبل میں، یہ نظام ویڈیو ڈیٹا کو دیگر ماخذوں جیسے خریداری کی تاریخ اور صارفین کے تاثرات کے ساتھ ملا کر زیادہ گہرائی سے معلومات فراہم کریں گے۔ یہ جامع نقطہ نظر ریٹیلرز کو زیادہ صحیح فیصلے کرنے اور بدلتے ہوئے صارفین کے رجحانات کے مطابق حکمت عملی تیار کرنے کا موقع دے گا۔ اضافی طور پر، AI وڈیو اینالیٹکس اسٹور کی سیکیورٹی اور نقصانات کے خاتمے کو بھی بہتر بنا سکتی ہے۔ مسلسل صارفین کے حرکت اور اعمال کی نگرانی کرکے، یہ ٹیکنالوجی مشتبہ رویوں کا جلد پتہ لگا سکتی ہے، جس سے اثاثوں کو محفوظ اور نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے۔ ان بہت سے فوائد کے باوجود، ریٹیلرز کو وڈیو اینالٹکس کے استعمال سے متعلق پرائیویسی کے مسائل کو بھی حل کرنا ہوگا۔ ڈیٹا اکٹھا کرنے کے قانونی معیاروں اور صارفین کی رازداری کا احترام یقینی بنانا اعتماد برقرار رکھنے اور ممکنہ منفی ردعمل سے بچاؤ کے لیے لازمی ہے۔ مجموعی طور پر، AI وڈیو اینالٹکس کو ریٹیل ماحول میں شامل کرنا بہتر، زیادہ صارف مرکز اسٹورز کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔ اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا کر، ریٹیلرز آپریشنز کو بہتر بنا سکتے ہیں، ذاتی نوعیت کے خریداری کے تجربے فراہم کر سکتے ہیں، اور بالآخر فروخت اور صارفین کی تسکین میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ جوں جوں AI ٹیکنالوجی ترقی کرے گی، اس کا ریٹیل کے مستقبل پر مثبت اثر اور نئی جدتوں کے امکانات روشن ہوتے جائیں گے۔
- 1